3 نومبر، 2026، 5:24 PM

ٹرمپ کی تقاریر میں بے ربطی، غیر شائستگی اور تضادات بڑھ گئے، نیویارک ٹائمز

ٹرمپ کی تقاریر میں بے ربطی، غیر شائستگی اور تضادات بڑھ گئے، نیویارک ٹائمز

امریکی اخبار کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے 6 ہزار 500 سے زائد تقاریر کے تجزیے کے نتیجے میں ٹرمپ کے انداز گفتگو میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ ایک سال کے دوران 6 ہزار 500 سے زائد تقاریر اور بیانات کا تجزیہ کیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، 2016ء میں پہلی مرتبہ صدارتی امیدوار بننے کے مقابلے میں اب ان کی گفتگو زیادہ غیر شائستہ اور کم مربوط ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی جلسوں اور وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی تقاریر کا جائزہ حیران کن نتائج سامنے لاتا ہے اور ان کی عمر کے اثرات اور ذہنی استحکام کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، بعض اوقات ٹرمپ بھولنے کا تاثر دیتے ہیں اور اپنی باتیں بار بار دہراتے ہیں۔ 2016ء کے مقابلے میں وہ زیادہ طویل گفتگو کرتے، غیر شائستہ الفاظ کا زیادہ استعمال کرتے اور معاملات کو عمومی انداز میں بیان کرنے لگے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان کی طویل تقاریر اکثر الجھی ہوئی اور بے ربط ہوتی ہیں۔ وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے سامعین الجھن میں پڑ جاتے ہیں اور انہیں ان کا اصل مطلب سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ بعض بیانات ان کے اپنے مؤقف سے بھی متضاد دکھائی دیتے ہیں۔

اس کی مثال دیتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے نئے ضیافتی ہال میں کہا تھا کہ صرف ہسپانوی النسل شخص ہی بلندی سے گرنے کے باوجود زندہ بچ سکتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے آبنائے ہرمز کا نام غلط ادا کرتے ہوئے اسے ’’آبنائے ہارمونز‘‘ کہا تھا۔

اخبار کے مطابق، ٹرمپ نے حال ہی میں ریاست ٹینیسی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’میں انتہائی احمقانہ باتیں کر سکتا ہوں اور آپ میرے لیے تالیاں بجا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘

News ID 1942578

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha